مشرق وسطٰی سے علاقائی فوجی پسپائی سے عالمی عسکری محاذوں تک: ظلم و ناانصافی کے خاتمے اور امن و عدل کے قیام کا ناگزیر سفر۔
Authors: Taha Nazir
Keywords:National Security, Defence Agreement, Military Strategy, Yemen War, Regional Conflicts, Parliamentary Oversight, Peace and Justice.
Abstract

یہ مضمون پاکستان کو درپیش داخلی، علاقائی اور ممکنہ بیرونی عسکری چیلنجز کا قومی سلامتی، آئینی ذمہ داری، دفاعی استعداد اور علاقائی استحکام کے تناظر میں تنقیدی و شواہد پر مبنی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات، عدالتی فیصلوں، پارلیمانی قراردادوں اور تحقیقی شواہد کی روشنی میں بالخصوص 17 ستمبر 2025 کے پاکستان–سعودی تزویراتی باہمی دفاعی معاہدے، 2015 کے یمن بحران پر پاکستانی پارلیمان کے مؤقف، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور فیض آباد دھرنا مقدمے کے عدالتی نکات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان پہلے ہی بلوچستان، خیبر پختونخوا، افغانستان، ایران، کشمیر، داخلی سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ جیسے کثیرالجہتی چیلنجز سے دوچار ہے؛ لہٰذا یمن یا کسی دوسرے بیرونی تنازع میں غیر محدود فوجی شمولیت عسکری و قومی وسائل کے حد سے زیادہ پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ مضمون یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع میں محدود اور واضح تعاون کو یمن کے اندر براہِ راست فوجی مداخلت سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ہماری دانست میں پاکستان کے لیے زیادہ پائیدار راستہ آئینی و پارلیمانی نگرانی، محتاط دفاعی تعاون، علاقائی توازن، فعال سفارت کاری اور واضح قومی مفاد پر مبنی پالیسی ہے، کیونکہ دیرپا امن محض عسکری برتری سے نہیں بلکہ قانون، عدل، سیاسی استحکام اور تنازعات کے منصفانہ حل سے قائم ہوتا ہے۔

Article Type:Research brief
Received: 2026-09-03
Accepted: 2026-09-10
First Published:2026-09-13
First Page & Last Page: 494 - 498
DOI: -
Collection Year:2026