آزاد کشمیر 2025 کے احتجاجات، عالمی تناظر، اور کشمیری شعور کی نئی جہتیں
Authors: Taha Nazir
Keywords:human rights in Kashmir, OIC Kashmir support, international law
Abstract

جانے والی ناانصافیوں کے خلاف ایک اندرونی عوامی بیداری کو اجاگر کیا۔ تاہم، ایک متوازی موقع بھی موجود ہے کہ لائن آف کنٹرول (LoC) کے دونوں اطراف کے کشمیری یعنی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) اور بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (IIOJK) — مل کر پرامن اور متحد حکمتِ عملیوں کے ذریعے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کریں۔ یہ تعاون جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے ماڈل پر استوار ہو سکتا ہے، جو عوامی سطح پر مطالبات، معاشی انصاف اور بین الاقوامی روابط کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہے، مگر اس بار یہ تحریک سرحدوں سے آگے بڑھ کر دونوں فریقوں کے قبضوں کو چیلنج کرے۔ اس جدوجہد کا بنیادی مقصد بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم شدہ "حقِ خود ارادیت" کا حصول، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی، اور امن و انصاف کی بالادستی کے ذریعے دیرپا استحکام قائم کرنا ہے۔ یہ تمام کوششیں آئینی، سفارتی اور شہری معاشرتی ذرائع پر مبنی ہوں، تاکہ وہ کسی ایسے تصادم سے بچیں جو دہائیوں سے زخموں سے چور اس خطے میں مزید انسانی نقصان کا باعث بنے۔

Article Type:Mini-review
Received: 2025-12-15
Accepted: 2025-12-24
First Published:2025-12-28
First Page & Last Page: 1 - 5
DOI: -
Collection Year:2025