Abstract
مئی 2025 میں مظفرآباد، راولاکوٹ، کوٹلی اور نیلم ویلی میں ہونے والے پرزور عوامی احتجاجات نے آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے عوام میں پاکستانی انتظامیہ کی مالی و انتظامی ناانصافیوں کے خلاف ایک تاریخی ردعمل پیدا کیا۔ ان مظاہروں کی قیادت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے کی، جو بڑھتی ہوئی بجلی کے نرخ، بدعنوانی، اور وفاقی کنٹرول کے خلاف متحد عوامی آواز بن کر ابھری۔ یہ واقعات نہ صرف مقامی احتجاج تھے بلکہ ایک وسیع سیاسی بیداری کا مظہر بن گئے — ایسی بیداری جو لائن آف کنٹرول (LoC) کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو ایک مشترکہ نصب العین میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ لمحہ اس لیے اہم ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (IIOJK) میں اگست 2019 کے بعد سے سیاسی حقوق منجمد ہیں، جب بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35-A کو منسوخ کر کے ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اب جبکہ دونوں اطراف کے کشمیری — ایک طرف معاشی محرومی اور دوسری جانب سیاسی قید — کے شکار ہیں، تو ان کے مابین مشترکہ، غیر عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔